PDA

View Full Version : دجيل اور باجوڑ


r4rifi
11-06-2006, 10:26 AM
اسلام عليکم
کل عراقی عدالت نے صدام کيس کا فيصلھ سنا ديا،دجيل کيس ميں موت کی سزا، ديکھا جائے تو يھ فيصلھ غير متوقع ھر گز نہيں اس کے بارے ميں بہت پہلے سے پيشين گوئیاں کی جا رہی تھيں۔ صدام کے کردار سے تمام لوگ بخوبی واقف ہيں کہ انہوں نے اپنے دور حکومت کے دوران کن قوتوں کے مفاد کے تحت کام کيا اور اسلام کے ليے کيا کارنامہ سر انجام ديا، آج وہی قوتيں بلآخر اپنے چہروں سے نقاب ہٹائے اس فيصلے کا خير مقدم کر رہی ھيں۔امريکہ کی تاريخ ديکھ ليں، وعدہ شکنی، دھوکھ بازی اور لالچ سے لبريز امريکی قيادت نے ھميشھ مسلم رہنماوں کو اپنا آلھ کار بنا کر ان سے فائدہ اٹھايا اور اپنا مقصد پورا کرنے کے بعد ايک معمولی مکھی کی طرح مسل کر رکھ ديا۔
شيکسپير نے کہا تھا کہ دنيا ايک سٹيج ھے مگر ميرے خيال ميں تو يہ دنيا اب ايک لذيذ و مرغن کھانے سے بھرا برتن بن چکی ہے جس پر ہر طرف سے امريکہ جھپٹ پڑا ہے، اور جہاں اپنا ہاتھ نہيں ڈالتا تو وہاں اپنے چمچوں کو چھوڑ ديتا ہے، يھ چمچے اور چمچوں کے چمچے اس طشتری سے سيدھا اسی کے منھ ميں جاتے ھيں۔
ليکن افسوس مسلم حکمران اپنے مستقبل اور عاقبت سے لا پرواہ ھو کر بہت فخر سے يھ چمچھ گيری کا فرض ادا کر رہے ھيں۔ اس کی تازہ مثال باجوڑ پر حملھ ہے، کيا سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگانے والے يھ بتا سکتے ہيں کہ يھ حملہ انہوں نے کس ملک کے اندر اور کس ملک کے شہريوں کے خلاف کيا؟ يقينا يہ پاکستان کے اندر پاکستانيوں کے خلاف ايک بزدلانہ کاروائی ہے، جو حکومت اپنے ملک کے اندر اتنی کمزور ہو کہ واضح ثبوتوں کا دعوی کرنے کے باوجود اپنی عوام پر شبخون مارے اسے تاريخ کن الفاظ ميں ياد رکھے گی؟ کياہمارے جان ومال اور سرحدوں کے محافظوں کے پاس صرف يہی ايک راستہ تھا کہ نماز کے ليے تياری کرنے والوں کو آن واحد ميں موت کے گھاٹ اتار دے؟اگر فی الواقعی وہاں دہشت گرد تربيت پا رہے تھے توکيا انہيں زمينی آپريشن سے زير نہيں کيا جا سکتا تھا؟ ياد رہے کے طالبان اور القاعدہ منظم جنگ لڑ رہے ہيں تو کيا وہ اس طرح کی غير محفوظ پناہ گاہ ميں رہنے کے متحمل ہو سکتے ہيں؟ يقينا نہيں ان سارے سوالوں کا جواب صرف يہی ہے کہ يہ بزدلانہ کاروائ صرف اور صرف امريکی افواج کی ہے جسے انہوں نے ايک پرائيويٹ چينل پر دعوی بھی کيا ہے مگر پرنس چارلس کو دکھانے کے ليے کہ حکومت پاکستان اپنی غيور عوام کے شديد رد عمل کو خاطر ميں نہ لاتے ہوئے اپنی چمچہ گيری پر بدستور کار بند ہے۔ مگر خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے، اور اس کے ہاں دير ہے اندھير نہيں۔۔۔۔۔آج جو فيصلہ دجيل کے قتل عام پر ھو ہے کل اس سے بھيانک فيصلھ باجوڑ کے معصوم طالب علموں کےبزدلانہ قتل کا ھوگا۔